بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا؟؟
اسلام_امن وآ شتی کا مذہب
(آر-ایس-بھٹی)
ہمارےمعاشرے کو مذہبی انتہا پسندوں نے تباہی کے کنارے پرلا ڈالا ہے- اس کے رد عمل نے ایک ایسےطبقے کو جنم دیا جو خود کو لبرل کہلوانا پسند کرتے ہیں- اور مذہبی شدت پسندوں کی جوابی کاروائی کے طور پر انھوں نے جہاں مذہبی اقلیتوں کے حق میں آوازاٹھائی وہاں پرمذاہب کے بانی انبیاء کی کردار کشی کرنا بھی اپنا حق سمجھ لیا- ایسی صورت میں جبکہ ایک متشدد طبقہ مذہب کی غلط تشریح کرکے معاشرے کا امن وسکون برباد کرنے کاسبب بن رہا ہے وہاں ساتھ ہی یہ لبرل انتہا پسند، انبیاء کی توہین کرکے معاشرے میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بنتے ہیں سادہ لفظوں میں دونوں گروہ ہی دو انتہاوں کاشکار ہیں
بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزاغلام احمد مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں
انبیاء سے بغض بھی اے غافلو اچھا نہیں
دور تک ہٹ جاؤ اس سے ہے یہ شیروں کی کچھار
معاشرے کے کسی مظلوم طبقہ کی حمایت کرکے کسی کویہ حق حاصل نہیں ہو جاتا کہ وہ خدا کے مرسلوں کی کردارکشی کرئے- بانی جماعت احمدیہ نے گزشتہ انبیاء کے عموما اور حضرت محمد صل اللہ علیہ وسلم پر اٹھائے گئے اعتراضات کا خصوصا تمام عمردفاع کیا اور خداکے فضل سے جماعت نے بھی ہمیشہ یہی طریق اختیار کیا- ایک بہت ہی پرانا اور گھساپٹا اعتراض جو اسلام پرکیاجاتا ہے اور جسے موجودہ حالات نےپھر سے تازہ کیا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعے پھیلا
یہ ایک نہایت ہی گھناونا، جھوٹا اور بے بنیاد الزام ہے جو اسلام پرلگایا جاتا ہے اگرچہ اسکا ہر پہلو سے جواب بھی دیا جاتا ہے لیکن چونکہ کتاب پڑھنا اورمنصفانہ اورغیرجانبدارانہ تحقیق کارواج قریباختم ہوگیا ہے اسلئے لوگ سنی سنائی باتوں کودہراتے رہتے ہیں اورپھرموجودہ حالات میں بہت سی جہادی تنظیمیں اسلام کانام استعمال کرکے دہشت گردی کا مرتکب ہوتی ہیں،جس کی وجہ سے بھی اس خیال کو تقویت ملتی ہے اورمزید ستم ظریفی یہ کہ بعض نام نہادعلماء جو خود شدت پسندی کارجحان رکھتے ہیں وہ خود بھی اس کا پرچار کرتے رہے ہیں
جیسا کہ ابوالاعلیٰ مودودی صاحب لکھتے ہیں
’’یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم 13 برس تک عرب کو اسلام کی دعوت دیتے رہے.... لیکن جب وعظ و تلقین کی ناکامی کے بعد داعی اسلام نے ہاتھ میں تلوار لی ۔۔۔ تو دلوں سے رفتہ رفتہ بدی و شرارت کا زنگ چھوٹنے لگا ۔۔۔ روحوں کی کثافتیں دور ہو گئیں۔ ۔۔۔ ایک صدی کے اندر چوتھائی دنیا مسلمان ہو گئی تو اس کی وجہ بھی یہی تھی کہ اسلام کی تلوار نے ان پردوں کو چاک کردیا جو دلوں پر پڑے ہوئے تھے‘‘۔
(الجہاد فی الاسلام صفحہ١٦٦- ١٦٨ باب چہارم ادارہ ترجمان القرآن لمیٹڈ اردو بازار لاہور
(اس کتاب کااصل متن مضمون کے آخیر پر دیاگیا ہے)
انسان کا خود کوعقل کل سمجھنا اسے انبیا کی پیروی سے روکتا ہے- شیطان کا آدم کو سجدہ سے انکارتکبرکانتیجہ تھا اورہمیشہ ہی سے انبیاء سے استہزاء تکبر کا نتیجہ رہا ہے اورانبیاء کے مخالفین کو یہی زعم رہا کہ اگر یہ شخص سچا ہوتا تو ہم ضرور اس کومان لیتے- آج بھی یہ قرآنی آیت نبیوں کے مخالفین کی ترجمان ہے اوراسی طرح سچ ہے جیسے چودہ سو سال پہلےتھی اورہر دورمیں رہی ہے
فقال الملا الذین کفروا من قومہ ما نرک الا بشرا مثلنا وما نرک اتبعک الا الذین ھم
( اراذلنا بادی الرای وما نری لکم علینا من فضل م بل نظنکم کذبین( ھود 28
پس اس کی قوم میں سے ان سرداروں نے کہا جنہوں نے کفر کیا کہ ہم تو تجھے محض اپنے جیسا ہی ایک بشر دیکھتے ہیں نیز ہم اس کے سوا تجھےکچھ نہیں دیکھتے کہ جن لوگوں نے تیری پیروی کی ہے وہ بادی النظر میں ہمارےذلیل ترین لوگ ہیں اور ہم اپنے اوپر تمہاری کوئی فضلیت نہیں سمجھتے بلکہ تمہیں جھوٹے گمان کرتے ہیں
پھریہی تکبر ہی ہے جو خدا کے بھیجے ہوئے پیعمبروں کی کردار کشی پر منتج ہوتا ہے اورمذہب کے انکار کی وجوہات مذہب پر اعتراضات تراشنے کی صورت میں نکالتاہے-حقیقت یہ ہے کہ اسلام ایک پرامن مذہب ہے اسلام نے ہمیشہ اخوت،بھائی چارے کا درس دیا ہے اوردوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو بھی صلح کی دعوت دی ہے چنانچہ قرآن کریم میں آتا ہے
(یآھل الکتب تعالواالی کلمتہ سوآء بیننا وبینکم الا نعبد الا اللہ- (آل عمران 65
یعنی توکہہ دے اے اہل کتاب! اس کلمہ کی طرف آجاو جوہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللہ کےسوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے
یہ وہ آفاقی تعلیم ہے جواسلام کوایک عالمگیرمذہب بناتی ہے تما م مذاہب عالم کوایک خدا کے نام پرایک ہی معاشرے میں پر امن طریق سے رہنے کا لائحہ عمل دیتی ہے اور دوسرے کے عقاعد کو برداشت کرنے کا سبق دیتی ہےمعاشرے میں دوسرے کے عقائد کو برداشت کرنے کی تعلیم اسلام نے اس دور میں دی جب لوگ اپنی ہی بیٹیوں کو قتل کر دیا کرتے تھے
معترضین کو یہ بات تو دکھائی دیتی دہے کہ قرآن نےقتال کی اجازت دی ہے لیکن اس بات سے نظریں چرا لیتے ہیں کہ کن حالات میں یہ اجازت دی گئی آنحضور صل اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی میں قریش نے انتہائی مظالم مسلمانوں پر کئے، خدائے واحد کی عبادت سےمسلمانوں کو جبرا روکا، ان کو نہایت بے دردانہ طور پر ماراپیٹا جاتا، بعض کو بے دردی سے قتل کیا گیا، ان کا بائیکاٹ کرکے ہلا ک کرنے کی کوشش کی گئی، حتی کہ ان مظالم سے تنگ آ کر بہت سے مسلمان مکہ سے حبشہ ہجرت کرگئے لیکن ان کفار مکہ نے وہاں بھی ان کا پیچھاکیا اور واپس لانے کی تدابیر کیں، واپس لانے میں ناکامی کا سامنا ہوا توغیض وغضب مزید بڑھ گیا، آنحضور صل اللہ علیہ وسلم کے خلاف قتل کا منصوبہ بنایا جس میں ناکام ہوئے پھر پیچھا کیا، لیکن خدا کی تائید و نصرت آ نحضور صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھی اور کفارمکہ غار ثور کےمنہ تک پہنچ کر بھی ناکام لوٹے
ان تمام مظالم کاکسی بھی اور قوم کو سامنا ہوتا تو وہ اس سے بہت پہلے اعلان جنگ کرچکی ہوتی
پھر ان سب حالات و واقعات کے بعد، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت فرما گئے تو قریش کو کیا ضرورت تھی کہ مدینہ پر حملہ کرتے۔ جب ظالموں نے مدینہ میں بھی آ رام سے نہ رہنے دیا تو پھر خدا نے محض اپنےدفاع کےلئے تلوار اٹھانے کی اجازت دی۔ اس پر بھی یہ کہنا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا محض حقائق سے مجرمانہ غفلت کے سوا کچھ نہیں۔ وہ تین سو تیرہ افراد جن کے پاس نہ مناسب تلواریں تھیں نہ ڈھالیں تھیں جو محض خدا کے فرمان پرایک مسلح لشکر کے سامنے کھڑے تھے تعصب کے بغیرظاہری نظر سے دیکھا جائے توآسانی سے کہہ سکتے ہیں کہ یہ خودکشی کے سوا کچھ نہیں تھا لیکن یہ کہنا کہ تلوار کے ذریعے اسلام پھیلانے کے لئے کھڑے تھے ایک نہایت ہی احمقانہ تبصرے کے سوا کچھ نہیں۔
اوریہ تمام جنگیں جوابی کارروائیاں تھیں نہ کہ مکہ پر حملہ۔ کیونکہ ہر بارکفار مکہ حملہ کرنےمدینہ کی طرف آ ئے
بدر میں قریبا ساڑھے تین سو کلومیٹر کا فیصلہ طے کیا جبکہ مسلمانوں نے اس سے آ دھا فاصلہ بھی طے نہیں کیا اوراحد کا میدان تو مدینہ سے صرف دس کلومیٹر کے فاصلے پر ہے، جبکہ جنگ خندق تو ہوئی ہی مدینہ کے اندر رہ کر تھی۔
سورہ الحج (٤٠) میں اللہ تعالی نے جہاد کی اجازت دیتے ہوئے فرمایا
اذن للذین یقتلون بانھم ظلموا وان اللہ علی نصرھم لقدیر
ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا( قتال کی) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پرظلم کئے گئے-اور یقینا اللہ انکی مدد پر قدرت رکھتا ہے
191 قرآن میں اللہ تعالی جہاد کی اجازت دیتے ہوئے جہاں یہ فرماتا ہے کہ البقرہ
قاتلو ا فی سبیل اللہ الذین یقتلونکم
یعنی تم اللہ کے راستہ میں ان لوگوں سےجنگ کرو جو تم سے جنگ کرتے ہیں
وہاں ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ اس کے ذریعے کسی کے مذہب کو جبرا تبدیل نہیں کرنا یعنی یہ دفاعی قتال کی اجازت دی جارہی تھی اور کہیں بھی اس کو اسلام پھیلانےکا ذریعہ قرار نہیں دیا اس لئے ساتھ ہی فرمایا کہ
لآ اکراہ فی الدین سورہ البقرہ 257
دین میں کوئی جبر نہیں
پھر سورہ البقرہ آیت 194 میں آتاہے
و قتلو ھم حتی لاتکون فتنتہ و یکون الدین للہ
یعنی اوران سے قتال کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اختیار کرنا اللہ ہی کی خاطر ہو جائے
ان دونوں آیات میں اللہ تعالی فرماتا ہے اے مسلمانو تمہیں قتال کی اجازت تو دی گئی ہے کیونکہ تم پر قتال مسلط کیا گیا ہے لیکن اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ تم قتال کے ذریعہ لوگوں کا دین تبدیل کرنے کی کوشش کرو بلکہ قتال کرو یہاں تک کہ دین کا اختیار کرنا محض خداکی خاطر ہو جائےاور کسی کو کوئی بھی دین اختیار کرنے میں کسی قسم کا خطرہ نہ رہے اوریہاں پر خداتعالی نے اسلام کا ذکر نہیں فرمایا بلکہ مذہب کے نام پر ہونے والے تشدد کی روک تھام کا ذکر فرمایا ہے
قتال کی جن حالات میں فرضیت ہوئی سورہ البقرہ (217) ہی میں ان حالات پر روشنی ڈالی گئی ہے اللہ تعالی فرماتا ہے
کتب علیکم القتال وھو کرہ لکم
تم پرقتال فرض کردیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناپسند تھا
اس سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ جن حالات مں قتال فرض کیا گیا وہ مسلمانوں کا انتہائی تنگی کا زمانہ تھا اور دشمن کے مقا بلے کے لئے جن وسائل کی ضرورت ہوتی ہے وہ تقریبا نہ ہونے کے برابر تھے اور یہ خیال کرلینا کہ قتال کی اجازت ملنے پر مسلمانوں نے گویا خوشی کے شادیانے بجائے ہوں گےبالکل غلط اوربعید از حقائق ہے
اسلام کی اشاعت امن کے دنوں میں ہوئی یا ایام جنگ میں؟؟؟
غزوہ بدر دوہجری میں ہوا جس میں تین سو افراد شامل ہوئے، غزوہ احد میں سات سو اورغزوہ خندق جو پانچ ہجری میں ہوا اس میں تین ہزار مسلمان شامل ہوئے (یہ تعداد اسلئے بھی زیادہ ہے کیونکہ یہ غزوہ مدینہ کے اندر رہ کر ہوا)-اس کے اگلے سال صلح حدیبیہ ہوئی جس میں ڈیڑھ ہزار افراد شامل ہوئے اس کے بعد قریباپونے دوسال امن کے آتے ہیں جس میں اسلام اس تیزی سے پھیلا کہ فتح مکہ کے موقع پردس ہزار مسلمان آنحضور صل اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اس سے بھی یہ الزام غلط ثابت ہوتا ہے کیونکہ جس تیزی کے ساتھ اسلام ان امن کے پونے دو سالوں میں پھیلا اس کی نظیر ماضی میں نہیں ملتی
پھر جب معترضین اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ یہ تلوار کی ذریعے پھیلا تو انہیں چاہیےکہ اس کے ثبوت کے طور پرایک فہرست بھی ایسے ناموں کی پیش کریں کہ جن لوگوں کوزبردستی تلوار کے ذریعے مسلمان بنایا گیا ہو۔
آنحضور صل اللہ علیہ وسلم کے دور میں دشمنوں نے تلوار کے ذریعے خدا کا پیغام روکنے کی کوشش کی اور خدا نے انھیں دفاع میں تلواراٹھانے کی اجازت دی- جبکہ آج اسلام کے مخالفین قلم کے ذریعے اسلام پر حملے کررہے ہیں اور رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم اور اسلام کے خلاف میڈیا کا استعمال کر رہے ہیں اسلئے اس دور کے امام الزمان حضرت مرزا غلام احمد قادیانی نے مخالفین کے ساتھ قلمی جہاد کیا اور جماعت احمدیہ بھی اس تقلید میں قلمی جہاد میں مصروف ہے
لیکن اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ احمدیت یعنی حقیقی اسلام اپنے وطن کےدفاع سے غافل کرتی ہے بلکہ پاکستان کی دفاعی تاریخ کبھی بھی احمدی سپاہیوں اور سپاہ سالاروں کے معرکے بیان کئے بغیرمکمل نہیں ہوسکتی -1948 کی جنگ کے موقع پر جماعت احمدیہ نے فرقان فورس بنا کر ملک کے دفاع میں اپنا حصہ ڈالا تھا اسی طرح احمدی فوجیوں ائیرمارشل ظفر چوہدری، لیفٹیننٹ جنرل عبدالعلی، لیفٹیننٹ جنرل اخترحسین ملک، میجرجنرل افتخار جنجوعہ، کے کارنامے تاریخ سنہری حروف میں یاد رکھے ہوئے ہے
یاد رکھیں ! ایک امام کے اشارے پر اٹھنے اور بیٹھنے والوں، اور ایک امام کی قیادت میں صف آرا جماعت کے بارے میں کبھی غلط اندازہ مت لگائیے- اگرکبھی ایسی ضروت پڑی توہراحمدی سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوگا انشااللہ
کبھی یہ بھول نہ جانا یہ بے غرض سے لوگ
جوحق کی راہ میں گردن کٹا بھی سکتے ہیں
امام وقت کے ابرو کے اک اشارے پر
تمہارے زعم کے پرزے اڑا بھی سکتے ہیں
____________________________











0 comments:
Post a Comment