Monday, February 8, 2021

کیا ظلم وستم رہ جائیں گے دنیا میں پہچان وطن





( شائع شدہ الفضل انٹرنیشل یکم اگست 2013 ) 

(آر- ایس- بھٹی)

آج سے قریبا بائیس برس قبل جب حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے یہ شعر کہا ہوگا تو وطن عزیز میں جرائم کی شرح آج کے مقابلے میں بہت کم ہوگی۔ لیکن آج یہاں جرائم کی بڑھتی ہوئی شرح دیکھنے کے لئیے ہمیں کسی عالمی ادارے کی طرف شائع ہونیوالے اعداد و شمار دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ روزانہ کے اخبارات اور خبروں کے ٹی وی چینلز کو اگر تھوڑی دیر کے لئے دیکھ لیا جائے تو اس بات کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہےکہ پچھلے چند سالوں میں اس ملک میں جرائم کی شرح میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے بلکہ لکھنے والوں نے تو یہاں تک لکھ دیا ہے کہ اگر اس کو انڈسٹری کا درجہ دے دیا جائے تو پاکستان میں تیزی سے ترقی کرنے      وا    لی یہ واحد انڈسٹری ہوگی

ہر گزرتے سال کے اختتام پر اور ہر نئے سال کے  آغاز پر اخبارات اور خبروں کے ٹیلی ویژن اسٹیشن ملک میں ہونیوالے ظلم و ستم اور جرائم کے جائزے پیش کرتے ہیں۔ ایک حالیہ ٹی وی رپورٹ کے مطابق مارچ 2012ء کے پہلے دو ہفتوں کے دوران صرف کراچی میں 793 موٹر سائیکلیں چھنی گئیں یا چوری ہوئیں  اور 209 گاڑیاں چھنی گئیں یا چوری ہوئیں۔ اور نومبر 2011ء    کے ایک ماہ کے دوران 65 گاڑیاں چھنی گئیں یا چوری ہوئیں۔ یعنی روزانہ بارہ گاڑیاں ۔ گویا ہر دو گھنٹے کے بعد ایک مالک اپنی گاڑی سے محروم ہوا۔

خیبر پختونخواہ میں سال2005ء میں ایک لاکھ دس ہزار جرائم ریکارڈ کئے گئے جو ایک سال میں بیس ہزار کے اضافہ کے ساتھ ایک لاکھ تیس ہزار ہو گئے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کی چالیس فیصد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہت۔ نوجوانوں  کی ایک بڑی تعداد بیکار یا بیروزگار ہے اس سلسلے میں اگر نوجوانوں کے اعدادو شمار کو دیکھا جائے تو جرائم اور دہشتگردی کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔

پچھلے ایک سال کے دوران 12 خود کش حملوں میں 82 اموات اور 341 زخمی ہوئے جبکہ 2001 سے لےکر 2011 تک کل 280 خود کش حملوں میں 4324 اموات ہوئیں اور 8622 زخمی ہوئے

اس کے علاوہ دوسری دہشتگردی  کی کاروائیوں میں 2003 سے 2011 تک 9620 عام شہری اوور 3443 سیکورٹی فورسز کے اہلکار لقمہ اجل بنے

حکومتی ارکان اس سلسلے میں کسی "بیرونی ہاتھ" کے ملوث ہونے کا کتنا ہی راگ الاپیں اور خواہ کتنے ہی ثبوت کیوں نہ مہیا کریں اس تلخ حقیقت کو جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ ان کاروائیوں میں ملوث زیادہ تر اپنے ہی ملک کے لوگ ہیں بظاہر ایک رحمت عالم کے ماننے والے اور اسکی محبت کا دم بھرنے والے 

اس رحمت عالم ابر کرم کے یہ کیسے متوالے ہیں

وہ آگ بجھانےآیا تھا یہ آگ لگانے والے ہیں

وہ والی تھا مسکینوں کا، بیواؤں اور یتیموں کا

یہ ماؤں بہنوں کے سر کی چادر کے جلانے والے ہیں

وہ جود وسخا کاشہزادہ تھا بھوک مٹانے آیاتھا

یہ بھوکوں کے ہاتھوں کی روٹی چھین کے کھانے والے ہیں

یہ زر کے پجاری بیچنے والے ہیں دین وایمان وطن

اے دیس سے آنیوالے بتا کس حال میں یاران وطن

اگر کسی مملکت میں مظلوم کے مقابل پر ظالم کو آئینی تحفظ حاصل ہو      تو  ایسی مملکت میں امن کی تلاش محض ایک سعی لا حاصل ہے- لیکن پھر بھی بس ایک ہی دعا اور ایک ہی امید کہ جو ضرورت بھی ہے اور مجبوری بھی جس سے چمٹے رہنا ہے 

جیتیں گے ملائک خائب و خاسر ہو گا ہر شیطان وطن

_____________________







0 comments:

Post a Comment