ALLAH IS THE GREATEST

THERE IS NO GOD BUT ALLAH.

Beauty

Peace

SEAL OF THE PROPHETS

ISLAM = PEACE + LOVE + TOLERANCE

ISLAM is derived from the Arabic root “SALEMA”:Means

Peace, Purity, Submission and Obedience

"SEAL OF THE PROPHETS"

The LAST LAW BEARING PROPHET

ALLAH HO AKBAR الله اکبر

ALLHA IS THE GREATEST.

ISLAM IS THE BEST RELIGION AMOUNG ALL

LOVE FOR ALL, HATRED FOR NONE

Everthing is created by ALLAH

Nature is always perfect.

ALLAH Knows Everything

No one is powerful then "ALLAH"

LOVE FOR HUMANITY

Love Humanity

Beauty

Love Humanity

Beauty

Love Humanity

Beauty

Peace

SEAL OF THE PROPHETS

ISLAM = PEACE + LOVE + TOLERANCE

ISLAM is derived from the Arabic root “SALEMA”:Means

Peace, Purity, Submission and Obedience

"SEAL OF THE PROPHETS"

The LAST LAW BEARING PROPHET

Sunday, December 26, 2021

Plantation



                    Planting a Tree is like  Planting a hope   

R.S.Bhatti

                       There is a famous Asian saying that the trees are another form of mothers because they give shade and tolerate the sun. People living in countries near the equator can understand the importance of shade of a tree in the scorching sun.

But this is not the only benefit of trees. Trees are very important for human race. They give us oxygen and keep our environment clean by absorbing various harmful gases and pollutants from the environment.

Prime minister Boris Johnson announces:
‘30,000 ha of trees to be planted every year as part of ‘green industrial revolution’

https://www.forestryjournal.co.uk/news/18897244.30-000-ha-planted-every-year-part-green-industrial-revolution-boris-johnson-announces/

To achieve this goal  the ladies section of the Ahmadiyya Muslim community, also taking part in tree plantion across UK. Women's auxiliary of the Ahmadiyya Muslim Community will be celebrating 100 years since being established, in 2022. To commemorate this and conserve our beautiful planet, the UK members have pledged to plant 100,000 trees across the UK. Till now only noth- east ladies have planted more than 1000 trees.

Around 13% of the UK was covered by woodland in March 2020.This is relatively low compared with other developed countries:  e.g., In most European countries, forest covers between 31-50% of land area, and this is also true of the US and Canada. For example, woodland covers 32% of France’s land area, 33% of Germany’s and 37% of Spain’s. This is why the Government has 
committed to increasing tree planting rates across the UK.
Islam has placed a great deal of significance tree planting. Founder of Islam, Hadhrat Muhammad (peace and blessing of Allah be upon him) described the importance of trees. There are several beautiful verses in the Book of Allah that contain descriptions of the lush, green gardens and trees and imply their significance in this world as well as the hereafter. 

In Holy Quran Allah Almighty said:
"And it is He Who sends down water from the cloud; and We bring forth therewith every kind of growth; then We bring forth with that green foliage wherefrom We produce clustered grain. And from the date-palm, out of its sheaths, come forth bunches hanging low. And We produce therewit gardens of grapes, and the olive and the pomegranate—similar and dissimilar. Look at the fruit thereof when it bears fruit, and the ripening thereof. Surely, in this are Signs for a people who believe."
 (Ch:6, V:100)

Similarly, the words of our beloved Prophet Muhammad peace be upon him, have established the importance of planting and taking care of trees. In many of his sayings the Holy Prophet peace be upon him, emphasised on the value and importance of plants. He forbade cutting down trees even during wars, and mentioned planting a tree as a charitable act.
In a hadith Holy Prophet peace and blessings be upon him, said, 
“Even if the Resurrection were established upon one of you while he has in his hand a sapling, let him plant it.”
(Musnad Aḥmad 12902)

Trees are an essential part of the our environment. They make the environment beautiful and fit for the existence of various species of organisms. Life on the earth will not be possible without trees. They are important to us in many ways. It would not be wrong to say that trees give us life.
Areas of greenery provide a more peaceful environment. People living in such areas experience less stress and are happy. Trees also provide food and shelter to us. . There leaves, roots and bark are used to prepare medicines.
We should avoid cutting trees and planting more of them. We should also encourage people around us to plant trees.








 

Sunday, November 21, 2021

namaz videos














importance of Namaz


 

Tabligh videos










Tabligh is an Obligation not a Voluntary  act




How Lajna can participate in Tabligh activities

 

Tuesday, November 16, 2021

Quran... word of Allah

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 قرآن ۔۔۔ خدا کا کلام 

آر۔ایس۔بھٹی 

اللہ تعالی نے قرآن میں انسان کے لیے بے شمار فوائد رکھے ہیں اور روحانی اور مادی طور پر دونوں علموں کے خزانے اس میں بیان فرمائے جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے

علم العلمان علم الابدان و علم الادیان

  بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں 

 جو لوگ قرآن کو عزت دیں گے وہ آسمان پر عزت پائیں گے

اللہ تعالٰی نے  بنی نوع انسان کی ہدایت کے لئیے اپنے پیارے نبی حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ والہ وسلم کو مبعوث فرمایا اور ان پر اپنا پاک کلام نازل فرمایا جو آج تک اپنی اصل حالت میں ہم میں موجود ہے قرآن میں چودہ سو سال گزرنے کے باوجود کسی تحریف کا نہ ہونا بذات خود قرآن کی سچائی پر ایک مضبوط دلیل ہے۔ مزید یہ کہ قرآن میں موجود پیش گوئیاں اور علوم کے خزانے قرآن کو وہ رفعتیں عطا کرتے ہیں جو کسی اور کتاب کے حصہ میں نہ آ سکیں اور جس سے اس کے خدا کا کلام ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ قرآن ایک مقدس الہی صحیفہ ہے ۔ اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے بارے میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے 

 جیسے کہ حکومت_سیاست کرنے کے بہترین طریق، لین دین کے معاملات، دین سے متعلق احکامات وغیرہ۔ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ سب کچھ کسی کتاب کے الہی صحیفہ ہونے پر مضبوط دلیل نہیں ہیں اور کوئی عقلمند انسان زندگی کے بعض مسائل کے بارے میں غور کر کے ان کے حل پیش کرسکتا ہے۔ لیکن ایک شعبہ جس پر قرآن نے بہت تفصیل سے رہنمائی فرمائی ہے اور جس کی تفصیلات کا علم آج سے چودہ سو سال پہلے کے انسان کو ہونا ناممکنات میں سے ہے وہ سائینسی علوم کے خزانے ہیں، جو قرآن نے دنیا کے سامنے پیش کئے ہیں اور جن کے بارے میں پندرہ سو سال پہلے کے انسان کا علم قریبا صفر تھا لیکن جس قدر تفصیل سے سائنس کی مختلف شاخوں اور ایجادات کے بارے میں قرآن میں آیا ہے وہ  اس دور کہ کسی اعلی تعلیم یافتہ انسان بھی بیان کرنا ممکن نہیں تھا کجا یہ کہ ایک غیر تعلیم یافتہ شخص اس بارے میں بنی نوع کی رہنمائی فرمائے کیونکہ وہ سہولیات جو سائنس کی ترقی کے لئیے ضروری تھیں ان کا پندرہ سو سال پہلے کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ اور ان میں سے زیادہ تر معلومات انسان کو پچھلے ایک سو سال کے دوران حاصل ہوئی ہیں انھی علوم میں سے ایک انسان کی پیدائش کے مراحل ہیں اللہ تعالی قرآن کریم میں سورہ المؤمنون کی آیت میں فرماتا ہے
وَ لَقَدۡ خَلَقۡنَا الۡاِنۡسَانَ مِنۡ سُلٰلَۃٍ مِّنۡ طِیۡنٍ

ثُمَّ جَعَلۡنٰہُ نُطۡفَۃً فِیۡ قَرَارٍ مَّکِیۡنٍ          

ثُمَّ خَلَقۡنَا النُّطۡفَۃَ عَلَقَۃً فَخَلَقۡنَا الۡعَلَقَۃَ مُضۡغَۃً فَخَلَقۡنَا الۡمُضۡغَۃَ عِظٰمًا فَکَسَوۡنَا الۡعِظٰمَ لَحۡمًا ٭ ثُمَّ اَنۡشَاۡنٰہُ خَلۡقًا اٰخَرَ ؕ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ اَحۡسَنُ الۡخٰلِقِیۡنَ

اور یقیناً ہم نے انسان کو گیلی مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا۔پھر ہم نے اسے نطفہ کے طور پر ایک ٹھہرنے کی محفوظ جگہ میں رکھا۔پھر ہم نے اس نطفے کو ایک لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کو مُضغہ (یعنی گوشت کے مشابہ جما ہوا خون) بنا دیا پھر اس مُضغہ کو ہڈیاں بنایا پھر ہڈیوں کو گوشت پہنایا پھر ہم نے اسے ایک نئی خِلقت کی صورت میں پروان چڑھایا۔ پس ایک وہی اللہ برکت والا ثابت ہوا جو سب تخلیق کرنے والوں سے بہتر ہے۔         (23:14،15،16)                            

       مشہور ماہر ایمبریالوجی ڈاکٹر کیتھ مور (1925۔2019) نے 1990ء میں اپنے ایک لیکچر میں ان آیات کے بارے میں کہا کہ 
     یہ ساتویں صدی عیسوی میں کسی سائنسی علم کی بنیاد پر نہیں تھیں بلکہ یہی مناسب نتیجہ ہے کہ یہ تفصیلات محمد صل اللہ علیہ والہ وسلم کو خدا نے الہام کی تھیں 

 

اور ایمبریالوجی کی تاریخ  کا آغاز اگرچہ چوتھی صدی عیسوی سے ہوتا ہے اور ارسطو پہلا ایمبریالوجسٹ تھا۔ اور اس نے مرغی کے انڈے پر تجربہ کر کے یہ تو تحقیق کی تھی کہ  پیدائش کے مختلف مراحل ہوتے ہیں لیکن ان مراحل کی اس نے کوئی تفصیلات نہیں بتائی تھیں۔ اس کے بعد گلیلیو نے پہلی مائیکروسکوپ بنائی جو کہ بہت ہی بنیادی نوعیت کی تھی اور انسانی پیدائش کے وہ مراحل جو قرآن نے بیان فرمائے ہیں وہ سائنس بیسویں صدی عیسوی میں بتانے کے قابل ہوئی تھی۔ 
ڈاکٹر کیتھ مور نے ایک کتاب بھی تحریر کی جس میں مسلمان طالبعلموں کے لیے قرآنی آیات کی روشنی میں پیدائش کے مختلف مراحل ( نطفہ، علقہ، مضغہ، عظاما، کسونا العظالحما )بیان کئے ۔ اور مختلف سائنسدانوں سے اس بارے میں رائے بھی لی۔  ان کی کتاب کا نام ہے: 
(The developing Human, with Islamic addition)

ڈاکٹر مور نے موجودہ دور کے بہترین سائنسدان دنیا بھر سے منتخب کئے اور ان سے بھی اس کے متعلق رائے طلب کی۔ انھوں نے جن سائنسدانوں سے اس بارے میں رائے لی ان میں ڈاکٹر ای۔ مارشل جانسن، ڈاکٹر ٹی۔وی۔این۔ پرساد اور ڈاکٹر سر رابرٹ ایڈورڈ شامل ہیں جن کا کہنا تھا کہ ہماری اب تک کی معلومات قرآن کی آیات عین مطابق ہیں 

اللہ تعالٰی نے قرآن میں کائنات کے بہت سے اسرار بیان فرمائے ہیں اور چودہ سو سال پہلے ان رازوں کو سمجھنے کے لئے انسان کے پاس کوئی ذرائعے بھی نہیں تھے لیکن وقت نے ان کی صداقت پر مہر ثبت کی اور اگر آج بھی ان رازوں میں سے بعض سائنسدانوں کو سمجھ نہ  آئیں تو یہ قرآن کی صداقت پر سوال نہیں ۔۔۔ بلکہ سائنس  ہی ہے جو آئندہ وقت کے ساتھ اپنےاصول نظریات اور  کو تبدیل اور بہتر بناتی رہی ہے۔ 

____________________________                                                     

Dr Keith L. Moore   

Dr. E. Marshall Johnson   

Dr. T.V.N. Persaud  

Dr. Sir Robert Geoffrey Edward (Nobel Prize in Physiology/Medicine)


               









Thursday, September 9, 2021

Peace ---no more a dream تلاش برائے امن

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

  تلاش برائے امن   

         (آر-ایس- بھٹی)

عالمی سطح پر بہت سےدن منائے جاتے ہیں انھی میں سے ایک عالمی یوم امن بھی ہے جو  ہر سال   ٢١  /ستمبر کو منایا جاتا ہے- اور اس سال یہ ایسے وقت پر منایا جارہا ہے جب متواتر کئی دہائیوں سے جاری افغانستان جنگ اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی ہے- اور بظاہر یہ ایک تاثر آرہاہے کہ شائید افغانستان میں امن قائم ہونے کے راستے ہموار ہوجائیں؛  ہماری   نیک تمنائیں افغانستان کے مظلوم لوگوں کے ساتھ ہیں۔ اسکے علاوہ بھی اس وقت دنیا میں بہت سے تنازعے جاری ہیں جیسے یمن، سوڈان، شام وغیرہ اور بعض تنازعے مثلا فلسطین، کشمیر  تو پچاس سال سے بھی زائد عرصہ سے چلے آرہے ہیں 

اکثر اوقات جب بڑی طاقتوں کی طرف سے  کسی جنگ کا آغاز کیا جاتا ہے تو اسے " جنگ برائے امن" کا نام  دیا جاتا ہے  لیکن شاذ ہی  ایسی کسی جنگ کے نتیجے میں دوبارہ ان علاقوں  کو امن کی طرف واپس آتے دیکھا گیا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ صدیوں سے امن، انسان کا خواب ہی ہے 

دوسری جنگ عظیم اپنی تباہ کاریوں کے انمٹ نقوش چھوڑتی 1945 ء میں اپنے اختتام کو پہنچی- یہی وہ وقت تھا جب انسان نے دنیا میں امن کی ضرورت کو بہت شدت سے محسوس کیا  اور  جیسا کہ  کسی دانشور نے کہا تھا کہ ہم نے پرندوں کی طرح ہوا میں اڑنا سیکھ لیا ہے اور مچھلی کی طرح پانی میں تیرنا بھی سیکھ لیا ہے اب وقت ہے کہ ہم انسانوں کی طرح زمین پررہنا بھی سیکھ لیں ۔ لہذا  معصوم لوگوں پر ایٹم بم کا ہولناک تجربہ کرنے کے بعد،اور قریبا اسی (80)ملین لوگوں کی جانیں ضائع ہو جانے کے بعد ، اقوام عالم نے امن کے بارے میں غوروفکر کرناشروع کیا - اس سلسلے میں اقوام متحدہ کا قیام،  امن کی ان کو ششوں کی طرف ایک احسن قدم تھا- انسان کی ان کوششوں کا یہ مثبت نتیجہ تو دیکھنے میں آیا کہ اب تک تیسری عالمی جنگ کسی حد تک ملتوی ہوتی رہی لیکن اس کے ساتھ ہی بہت سی چھوٹی جنگوں کاآغاز ہوگیا

امن کی تلاش یقینا ایک سعی لا حاصل ہرگز نہیں، اس کو حاصل کرنے کا بہت ہی سادا اور عام فہم اصول عدل کے نام سے جانا جاتا ہے اور ترقی یافتہ ممالک میں نظام عدل پر سختی سے عمل درآمد کروایا جاتا ہے لیکن خدا معلوم، کہ جب یہی ترقی یافتہ قومیں کسی دوسری قوم کے بارے میں فیصلے کرتی ہیں تو اس اصول کو غیر ضروری چیز کی طرح با لائے طاق کیوں رکھ دیا جاتا ہے

اسلام نے قرآن کی صورت میں نسل انسانی کو درپیش تمام اہم مسائل کا حل دنیا کے سامنے رکھا ہے اور دنیا میں امن قائم کرنے کے سنہری اصول بیان فرمائے ہیں- اور اس بات سے سختی سے منع فرمایا گیا ہےکہ محض دشمنی کی بنا پر کسی دوسری قوم سے ناانصافی کا معاملہ کیاجائے- چنانچہ اللہ تعالٰی قرآن کریم میں فرماتا ہے

 

اسی طرح اللہ تعالی نے ایک دوسری جگہ اس بات سے بھی منع فرمایا ہے کہ جو دوسری قوموں کے لوگ  قتال پر آمادہ نہیں ہیں ان سے لڑائی کی جائے- بلکہ ان کے ساتھ انصاف اور نیکی کے ساتھ معاملہ کرنے کی تلقین فرمائی گئی ہے

پھر قرآن کریم نے تمام اہل کتاب کو  ایک خدا کے نام پر اکٹھے ہونے کی دعوت دی ہےکیونکہ ایک خدا کاتصور تمام الہی مذاہب کے ماننے والوں میں پایا جاتا ہے- یہ ایسی آفاقی تعلیم ہے  جو باہمی اختلافا ت کم کرنے میں بہت مددگار بن سکتی ہے - اگر  انسان آپس میں موجوداختلافات بھلا کر، مشترک باتوں پر اکٹھے ہوجائیں تو یہ امن قائم کرنے کی طرف نہایت مثبت قدم ثابت ہو سکتاہے  اللہ تعالی فرماتا ہے

انصاف اور امن ایک دوسرے کے ساتھ لازم وملزوم ہیں - ظلم اور ناانصافی معاشرے میں بدامنی اور بے چینی پیدا کرتے ہیں اگر دنیا میں امن قائم کرنا ہمارا مقصد ہے تو اس اصول کو پس پشت پھینک کر ہم یہ مقصد کبھی حا صل نہیں کرسکتےلہذا ہمیں اس  کی سمت میں قدم بڑھانا ہوگا 

ایک لطیفہ مشہور ہے کہ ایک شخص گلی سے گزر رہا تھا اس نے دیکھا کہ اسکا ہمسایہ اپنے گھر کےسامنے کھڑا کچھ ڈھونڈ رہا ہے پوچھنے پر پتہ چلا کہ اس کی سوئی گم ہو گئی ہے وہ شخص بھی اپنے ہمسائے کی مدد کے لئیے اس کی تلا ش میں شامل ہوگیا لیکن کافی دیر تک ڈھونڈنے پر بھی اس کی گمشدہ سوئی نہ ملی تب اس نے اپنے ہمسائے سے پوچھا کہ آپ کی سوئی کہاں گم ہوئی تھی تو ہمسائے نے بتایا کہ وہ اندر میرے گھر میں گم ہوئی تھی وہ شخص بہت سٹپٹایا کہنے لگا پھر یہاں کیوں ڈھونڈرہے ہو ؟اندر جا کر ڈھونڈو ! تو اس کے ہمسائےنے جواب دیا اندر کیسے ڈھونڈوں وہاں تو اندھیرا ہے

تو جناب یقینا دنیا کوامن نصیب ہوگا بس یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں  ہم اسے غلط جگہ پر  تو تلاش  نہیں کر رہے؟ کیا ہماری سمت درست ہے؟ 

مجھے اپنا ستارا ڈھونڈنا ہے

ستاروں سے بھرے اس آسماں کی وسعتوں میں 

مجھے اپناستار ڈھونڈنا ہے

-------

-------

سناہے گمشدہ چیزیں

جہاں پر کھوئی جاتی ہیں 

وہیں سے مل بھی جاتی ہیں

مجھے اپناستارا ڈھونڈنا ہے









Friday, August 13, 2021

our homeland is our love یہ خاک وطن ہے جاں اپنی

        
اگست کے ملے جلے خیالات 

                یہ خاک وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے 

 (آر۔ ایس۔ بھٹی)                                                                                                 

     یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ پاکستان میں موجود  اٹھانوے فیصد مسلمانوں کے مذہبی جذبات  کس قدر نازک ہیں   نہ صرف نازک ہیں بلکہ کچھ عجیب / متنازعہ  قسم کے ہیں اور ان کی دل آزاری کچھ انوکھی طرز سے ہوتی ہےمثلا

کسی احمدی عبادت گاہ پر موجود مینار صرف اس لئیے توڑ دیئے جاتے ہیں کہ مینار کی موجودگی سے اس عبادت گاہ کے  مسجد ہونے کا گمان ہوتا ہے  اور یہ مسلمانوں کو گوارا نہیں کہ ان کی دل آزاری ہوتی ہے 

اور کسی مندر میں موجود مورتیوں کو کس لئیے توڑا جاتا ہے ؟ شائید اس لیئے کہ یہ سب اسلام کی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا احمدیوں کی عبادت کو غیراسلامی بنانا اور غیر مسلموں کی عبادت گاہ کو اسلامی طرز پر ڈھالنا، دونوں مقامات پر مسلمانوں کی دل آزاری کی وجوہات بالکل ایک دوسرے کے برعکس کیوں ہیں؟ ۔۔۔ 

  اگر ایک احمدی کلمہ پڑھے تو دوسرے مسلمانوں کی دل آزاری  ہوتی ہے اور اس پر مقدمہ قائم کیا جاتا ہے 

لیکن ایک ہندو کو تھپڑ مار مار کے زبردستی اللہ اکبر کہلوایا جاتا ہے ۔۔۔۔اور اس سے مسلمانوں کی دل آزاری نہیں ہوتی ہے

احمدی کے کلمہ پڑھنے سے دل آزاری کیوں ہوتی ہے اور غیر مسلم سے اللہ اکبر کہلوانے سے کیوں نہیں ہوتی؟ 

یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب ابھی تک منظر عام پر تو نہیں آئے لیکن گمان ہے کہ پاکستان کے مذہبی علما اپنے کسی مدرسے کی لیبارٹری میں ان کے جواب تیار کروا رہے ہوں ؟ ۔۔۔ 

لیکن یہ مذہب کے ٹھیکیدار ایک بات تو مان گئے ہوں گے کہ یہ مذہبی اقلیتوں پر جتنا بھی ظلم کریں نہ تو یہ ان کا مذہب  چھین سکے نہ ہی وطن کی محبت ۔ 

یہ خاک وطن ہے جاں اپنی اور جان تو سب کو پیاری ہے

اور پیارے آقا و مولی حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ والہ وسلم کے فرمان "حب الوطن من الایمان" ۔ پر ہم کاربند ہیں، اور رہیں گے انشاءاللہ 

مذہبی منافرت ہمارے ماحول میں پائی جانیوالے تناو کی واحد وجہ نہیں ہےبچوں کے بارے میں جرائم نئی نئی شکلیں بدل کر سامنے آتے ہیں جن کو ضبط تحریر میں لانے کے لئیے بھی حوصلہ چاہیئے

صنف نازک کے خلاف ہونے والے مظالم کی نوعیت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، ہم نے دانستہ طور پر یہاں خواتین کی بجائے صنف نازک کا لفظ استعمال کیا ہے کیونکہ جانوروں کی صنف نازک بھی اب انسانوں کی سفاکی سے محفوظ نہیں اور قبروں میں دفن مردے تو زندہ انسانوں کی بے رحمی کا نشانہ بننے   سے نوحہ کناں ہیں

 مقصد ملک میں ہونے والے جرائم کو گنوانا نہیں کیوں کہ یہ کام تو  بڑے بڑے عالمی ادارے کر رہے ہوتے ہیں دیکھنا تو صرف یہ ہے کہ ہمارے معاشرے کی سمت کیا ہے؟ ایک طرف مذہبی جنونیت بھی اپنی انتہاوں کو چھونا چاہ رہی ہے اور جنسی جنونیت بھی۔ یعنی دو بالکل متضاد چیزیں بیک وقت عمل پیرا ہیں۔ اگر حکومت کا موقف سنا جائے تو وہ بھی اتنا ہی مبہم اور دوہرا معیار لئیے ہوئے ہے جتنا عوام کا ۔ یعنی کبھی ریپ ہونے کی تمام ذمہ داری ریپ ہونیوالوں پر ڈالی جاتی ہے کبھی اس کے برعکس بیان آتا ہے۔ کبھی ہمسا یہ ملک کے مذہبی جنونی گروہ دشمن ہوا کرتا تھا اور اب انھیں محافظ کہا جاتاہیں۔ کبھی وہ  قاتل تھے اور اب شہید ہیں۔ 

لیکن یہ اگست کا مہینہ ہے اور  لکھنا تو تھا قائد اعظم کی اولوالعزم شخصیت پر،  ان کے برصغیر کے مسلمانوں پر احسانات کے بارے میں،  لیکن نظر بار بار قائد اعظم کے پاکستان کی حالت زار کی طرف لوٹ جاتی ہے

کہتے ہیں کہ جب کسی قوم کو تباہ کرنا ہو تو اسے اس کے اسلاف سے بد ظن کر دینا چاہیئے۔ اور ہماری قوم اپنے محسن  قائد کو بھی تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے اور دو قومی نظریہ کوبھی۔   سوچنے کی بات ہے کیا دو قومی نظریہ قائد اعظم کا تخلیق کردہ تھا؟  

یہ نظریہ تو سینکڑوں سالوں سے برصغیر کے مسلمانوں کا خواب تھا۔ جسے قائد نے عملی جامہ پہنایا۔ اگر برطانوی تقسیم کاروں نے مسلمانوں کی آبادی کے مطابق انھیں خطہ زمین نہیں دیا اور تقسیم   کے منصوبے میں سقم رکھے گئے تو اس میں قائد اعظم تو قصور وار نہ تھے۔ 

لیکن قائد اعظم کی طرف سے وضاحتیں دینے کی بجائے ہمیں ان لوگوں کو پہچاننے کی ضرورت ہے جنھوں نے یا جن کے بڑوں نے  اسوقت بھی قائد کی مخالفت کی اور پاکستان بننے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالیں اور آج  بھی ان کی کردار کشی میں مصروف ہیں صرف ایک ہی مذہبی جماعت تھی جماعت احمدیہ جس نے پاکستان بنانے میں بحیثیت جماعت قائد کا ساتھ دیا 

 اگر برصغیر کے مسلمان یک جان ہوکر اس وقت قائد کا ساتھ دیتے تو تقسیم کے وقت کسی کو پاکستان کے حصہ میں ڈنڈی مارنے کی جرات نہ ہوتی اور سینکڑوں سالوں سے برصغیر کے مسلمانوں کے سینوں میں سلگتی الگ خطہ زمین کی خواہش عظیم  الشان طریقہ سے پوری ہوتی لیکن افسوس مسلمان تب بھی بکھرے ہوئے تھے اور آج بھی 

افتخار عارف کی  نظم "قائد کے حضور"  بار بار  ذہن میں گونجتی ہے

 

       بے اثر ہو گئے سب حرف و نوا تیرے بعد   

کیا کہیں دل کا جو احوال ہوا تیرے بعد

تو بھی دیکھے تو ذرا دیر کو پہچان نہ پائے

ایسی بدلی ترے کوچے کی فضا تیرے بعد

اور  تو کیا کسی پیماں کی حفاظت کرتے

ہم سے اک خواب سنبھالا نہ گیا تیرے بعد

ترے قدموں کو جو منزل کا نشاں جانتے تھے

بھول بیٹھے تیرے نقش کف پا تیرے بعد

مہرو مہتاب دو نیم ایک طرف خواب دو نیم

جو نہ ہونا تھا وہ سب ہو کے رہا تیرے بعد

**********************                                     







 


Seal of the Prophets خاتم النبیین








 

Saturday, July 31, 2021

حج پر نہ جانے پر اعتراض

 

حج پر نہ جانے پر اعتراض

حضرت مرزا غلام احمد قادیانی، مسیح موعود و مہدی معہودؑ

حج کے لئے نہ جانے کی وجہ ایک شخص نے عرض کی کہ مخالف مولوی اعتراض کرتے ہیں کہ مرزا صاحب حج کو کیوں نہیں جاتے؟

فرمایا:۔

یہ لوگ شرارت کے ساتھ ایسا اعتراض کرتے ہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم دس سال مدینہ میں رہے۔ صرف دو دن کا راستہ مدینہ اور مکہ میں تھا مگر آپ نے دس سال میں کوئی حج نہ کیا۔ حالانکہ آپ سواری وغیرہ کا انتظام کر سکتے تھے۔ لیکن حج کے واسطے صرف یہی شرط نہیں کہ انسان کے پاس کافی مال ہو بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو۔ وہاں تک پہنچنے اور امن کے ساتھ حج ادا کرنے کے وسائل موجود ہوں۔ جب وحشی طبع علماء اس جگہ ہم پر قتل کا فتویٰ لگا رہے ہیں اور گورنمنٹ کا بھی خوف نہیں کرتے تو وہاں یہ لوگ کیا نہ کریں گے لیکن ان لوگوں کو اس امر سے کیا غرض ہے کہ ہم حج نہیں کرتے۔ کیا اگر ہم حج کریں گے تو وہ ہم کو مسلمان سمجھ لیں گے؟ اور ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے؟ اچھا یہ تمام مسلمان علماء اوّل ایک اقرار نامہ لکھ دیں کہ اگر ہم حج کر آویں تو وہ سب کے سب ہمارے ہاتھ پر توبہ کر کے ہماری جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور ہمارے مرید ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسا لکھ دیں اور اقرار حلفی کریں تو ہم حج کر آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے واسطے اسباب آسانی کے پیدا کر دے گا تاکہ آئندہ مولویوں کا فتنہ رفع ہو۔ ناحق شرارت کے ساتھ اعتراض کرنا اچھا نہیں ہے۔ یہ اعتراض ان کا ہم پر نہیں پڑتا بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر بھی پڑتا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی صرف آخری سال میں حج کیا تھا۔ (ملفوظات جلد پنجم صفحہ248)

Someone asked that opponent maulvis object as to why Mirza sahib does not go to Hajj?

The Promised Messiah said:

“These people raise this objection out of mischief. The Holy Prophet (saw) lived ten years in Medina. It was only two days travel between Medina and Mecca, but Holy Prophet (saw) did not perform Hajj for ten years, even though he could have arranged for conveyance. It is not the only condition for Hajj that one has sufficient wealth but it is also important that there is no danger of mischief and there should be means available to reach there with peace and to perform Hajj. When beasts like maulvis issue fatwa of death here and do not fear the government, then what else could they not do there? But these people have no interest that we do not perform Hajj. If we perform Hajj then will they consider us Muslims? And will they join our Jama’at? Well, firstly all these Muslim scholars should write a declaration that if we perform Hajj then all of them will repent on our hand and will enter our Jama’at and will become our followers. If they write as such and take an oath then we will perform Hajj. Allah (swt) will arrange means of convenience for us so that in future the mischief of maulvis ends. It is no good to object mischievously. This objection of theirs does not come on us but on Holy Prophet (saw) as well because Holy Prophet (saw) performed Hajj in his last year only.” (Malfoozaat, Vol. 5, p. 248)

Friday, July 30, 2021

عیسائی چرچوں کو درپیش مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ

 

عیسائی چرچوں کو درپیش مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ

اس کے عقائد میں معقولیت کی تلاش ہے

چوہدری خالد سیف اللہ خان

ایک حالیہ سروے کے مطابق اگرچہ آسٹریلیا کے ۷۴ فیصد لوگ خدا کے وجود کو تسلیم کرتے ہیں مگر صرف ۴۲ فیصد یسوع مسیح کی الوہیت اور مُردوں میں سے دوبارہ جی اٹھنے کے قائل ہیں۔ جنت کے وجود کو صرف ۵۳فیصد مانتے ہیں اور جہنم کو ۳۲ فیصد۔ شیطان کے خارجی وجود کو صرف ۳۳ فیصد تسلیم کرتے ہیں ۔ اس خبر پر سڈنی مارننگ ہیرلڈ نے اپنے اداریہ میں یوں تبصرہ کیا ہے :

’’اس ہفتہ کے آغاز میں ہیرلڈ نے ایک حالیہ سروے کے جو نتائج شائع کئے تھے ان سے معلوم ہوتاہے کہ اگرچہ آسٹریلیا کے شہریوں کا تین چوتھائی حصہ خدا کے وجود پر ایمان رکھتاہے لیکن نصف سے بھی کم ایسے ہیں جو عیسائیت کے مرکزی عقائد پر ایمان رکھتے ہیں ۔ چنانچہ نیشنل چرچ لائف سروے(NCLS)نے ایڈتھ کوون یونیورسٹی پرتھ کے ساتھ مل کر جو سروے کیا ہے اسکے مطابق صرف ۴۳فیصد یہ مانتے ہیں کہ یسوع مُردوں میں سے جی اٹھا تھا اوراس سے بھی کچھ کم (۴۲) فیصد یسوع کی خدائی پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ تو معلوم شدہ بات ہے کہ گزشتہ مردم شماری میں ۷۰فیصد شہریوں نے اپنا مذہب عیسائیت لکھوایا تھا تو پھر یہ اعدادو شمار کیا ظاہر کرتے ہیں؟

پہلی بات تو یہ ہے کہ عیسائی چرچوں کو ایک گھمبیر چیلنج کا سامنا ہے ۔ عیسائیت کا اصل مسئلہ اس کے عقائد میں معقولیت کی تلاش ہے (Christianity has a Plausibility Problem)۔یہ ابھی تک کائنات کے اس تصور سے چمٹی ہوئی ہے جو جدید سائنس کی نسبت زمانہ وسطی کے توہمات کے زیادہ قریب ہے ۔ چرچ سکھاتاتویہ ہے کہ سب کو اپنے دائرہ کے اندر لانا چاہئے لیکن خود اس کا اپنا عمل لوگوں کو اپنے دائرہ سے باہر نکالنے کا ہے۔(سب سے نمایاں مثال عورتوں کی مذہبی رسومات اور اس کے تنظیمی ڈھانچہ میں بھرپور شمولیت کی ہے )۔ پھر عیسائیت بظاہر جماعت کی وحدت کی اہمیت کو برقرار رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے مگر باوجودیکہ اس پرتیسرا ہزار سال شروع ہونے والاہے یہ کئی گروہوں میں منقسم ہے اور باوجود ایک مشترکہ مقصد کے ادّعا کے انہوں نے اپنے اختلافات حل کرنے کی کوئی راہ اب تک نہیں نکالی۔

دوسری بات جو سروے سے معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ چرچوں کو درپیش چیلنج صرف انہی تک محدود نہیں بلکہ یہ سبھی مروّجہ مذاہب کا مسئلہ ہے ۔ ان سب کی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے ۔ مذکورہ بالا ادارہ کے مطابق ۱۶فیصدسے بھی کم آسٹریلین ایسے ہیں جو مہینہ میں ایک بار بھی چرچ جانے کی تکلیف گوارا کرتے ہیں اور اگرلوگ چرچ نہیں جاتے تو یہ خیال کرنا درست ہوگا کہ وہ چرچ کے قائدین کی باتوں کو بھی کم ہی درخود اعتنا جانتے ہیں۔ نیز و ہ اس اخلاقی تعلیم پر معترض ہیں جن کوقبول کرنا وہ دوبھر سمجھتے ہیں۔

بایں ہمہ یہ احساس بھی شدید ہے کہ انسان کوزندگی گزارنے کے لئے مذہب کی بھی ضرورت ہے۔(There is a religious dimension to life)۔اس سے ظاہرہوتاہے کہ لوگوں کی اکثریت خدا کی موجودگی پر یقین رکھتی ہے ۔چنانچہ ایسٹر اور کرسمس پر چرچوں میں حاضری بڑھ جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ماوراء طبعی امور میں لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے۔ جس کو اس بات میں شک ہو وہ اس بات پر غور کریں کہ آج کل کتنے رنگ برنگ کے ’’مذاہب‘‘وجود میں آ رہے ہیں اور Spiritualityکے موضوع پر مارکیٹ میں کتابوں کی کتنی بھرمارہے ۔

(سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۹۹۔۴۔۲)

(مطبوعہ :الفضل انٹرنیشنل۲۸؍مئی۱۹۹۹ء تا۳؍جون ۱۹۹۹ء)



لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ


لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہِ






ہمارے  مذہب کا خلاصہ اور لب لباب


-یہ ہے کہ لاالٰہ الّا اللہ محمد رسول الله ہمارا اعتقاد جو ہم اس دنیوی زندگی میں رکھتے ہیں حضرت سیدنا و مولانا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیّین و خیر المرسلین ہیں جن کے ہاتھ سے اکمال دین ہو چکا
اور وہ نعمت بمرتبہ اتمام پہنچ چکی جس کے ذریعہ سے انسان راہ راست کو اختیار کر کے خدائے تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے اور ہم پختہ یقین کے ساتھ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ قرآن شریف خاتم کتب سماوی ہے اور ایک شُعشہ یا نقطہ اس کی شرائع اور حدود اور احکام اور اوامر سے زیادہ نہیں ہو سکتا اور نہ کم ہو سکتا ہے اور اب کوئی ایسی وحی یا ایسا الہام منجانب اللہ نہیں ہو سکتا جو احکام فرقانی کی ترمیم یا تنسیخ یا کسی ایک حکم کے تبدیل یا تغییر کر سکتا ہو اگر کوئی ایسا خیال کرے تو وہ ہمارے نزدیک جماعت مومنین سے خارج اور مُلحد اور کافر ہے۔

حضرت مرزا غلام احمد، مسیح موعودؑ۔ ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد3۔ صفحہ169تا 170

















Saturday, July 17, 2021

مجھے خوف آتش گل سے ہے۔۔۔۔

                                                        مجھے خوف آتش گل سے ہے۔۔۔

     ( آر- ایس-بھٹی)                                                                                                                   
بھاگتی دوڑتی زندگی کے آگے اچانک کرونا سپیڈ بریکرکے آجانے سے اس کی رفتار کچھ آہستہ ہو گئی۔  کہتے ہیں کہ کرونا کی وبا نے ملکی معیشت پر بہت برے اثرات مرتب کئے ہیں، اور یہ بات درست بھی ہے کیونکہ بہت بڑی تعداد میں کاروبار زندگی کو تالا پڑ گیا
لیکن کروناکو آئے تو ابھی ایک سال ہوا ہے، کیا اس سے پہلے ہماری معیشت چھلانگیں لگاتی ترقی کی سیڑھیاں چڑھ رہی تھی؟ ایسا نہیں ہے،  یقینا اور بھی بہت سے کرونا ہیں جو پچھلے چالیس، پچاس سالوں سے پاکستان کی معیشت کو چمٹے ہوئے ہیں۔ یہ بڑے بڑے شاہانہ اخراجات کرنے والی پاکستان کی ایلیٹ کمیونیٹی کی اولادیں،  جن میں سے ہر کوئی خود کو نواب ابن نواب ثابت کرنے کی سر توڑ کوششیں کر تا رہتا ہے۔ لیکن پاکستان بننے کہ وقت پر جو  اصل نواب پاکستان آئے انھوں نے اپنے سرمائے پاکستان کے لئیے وقف کیے اور کبھی پلٹ کر نہیں پوچھا،  اور نہ ہی پاکستان کے خزانے کی مدد کے لئیے دی گئی رقوم کی واپسی کے لئیے کوئی شرط رکھی اور نہ ہی  اپنی دولت کو ملک کے مفاد پر فوقیت دی۔ نوابزادہ لیاقت علی خان، نواب آف بہاولپور،  سرآغا خان۔ ان میں سےچند نام ہیں لیکن اس کے بعد کی نسل نے جونک کی طرح ملک کو چوسنا شروع کیا، اور ملکی دولت کو ملک سے باہر بھیجنااور اس کو ذاتی دولت سمجھنا شروع کردیا 

 پچھلے ماہ پاکستان نے 2021۔22 کا بجٹ آٹھ ہزار چارسو 87 ارب روپے کا پیش کیا ہے، جس میں سے خسارہ چار ہزار ارب روپے ہے، یعنی آمدنی سے قریبا دوگنے اخراجات ہیں-اس میں دفاعی بجٹ ایک ہزار 37 سو ارب روپے کا ہے یعنی کل بجٹ کا آٹھواں حصہ اور گزشتہ سال سے چھ فیصد زیادہ ہے جو کہ یقینا ایک بہت بڑا تناسب ہے


اگر ہم پاکستان کے شروع کے چند سالوں کے بجٹ پر ایک نظر ڈالیں تو انتہائی مشکل حالات کے باوجود بھی اس دور کے بجٹ آج کل کے بجٹوں کی نسبت حوصلہ افزا ہیں-  لیاقت علی خان نے پہلا مالی بجٹ 1948 -49   کا پیش کیا تھا ۔ اگر چہ اس وقت مغربی پاکستان یعنی آج کے پاکستان کا  پہلابجٹ(1) 10 کروڑ خسارے کے ساتھ  پیش کیا گیا تھا، مگر اس کے بعد 1953-54 کے بجٹ کے علاوہ مالی سال 1969-70 تک تمام بجٹ خسارے کے نہیں بلکہ بچت کے بجٹ تھے۔

اس کے بعد صدر جنرل یحییٰ خان کے دور میں مالی سال1970-71  اور 1971-72کے لئے خسارے کے بجٹ پیش کئے گئے۔ 16 دسمبر 1971ء کی جنگ میں پاکستان کو خاصا نقصان پہنچا، لیکن جون 1972 تک مالی سال ختم ہوا تو بھٹو حکومت نے پہلا بجٹ پیش کیا۔ یہ مالی سال 1972-73 کا وفاقی بجٹ اور مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش میں تبدیل ہونے کے بعد پہلا بجٹ تھا، (2) لیکن حیرت انگیز طور پر یہ خسارے کا بجٹ نہیں تھا۔ واضح رہے کہ سقوط ڈھاکہ کے بعد ملکی خزانہ بالکل خالی تھا اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے لیے بھی صرف چار مہینوں کی رقم تھی۔

 اس کے بعد متواتر 13 سال تک خسارے کے بجٹ آئے۔ غالبا اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ پاکستان کے ایک بہت مایا ناز ماہر اقتصادیات  جناب ایم ایم احمد صاحب  پر 1971 میں احمدی ہونے کی وجہ سے قاتلانہ حملہ ہوا ،جس کے کچھ عرصہ کے بعد انھوں نے پاکستان کو خیر آباد کہہ دیا -ایم ایم احمد صاحب کا نام پاکستان کی معیشت  میں بہت نمایاں نام تھا۔ انھوں نے قیام پاکستان سے لے کر  ہر مشکل وقت میں  ملک کی رہنمائی کی۔ اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہا جب تک کہ اسلم قریشی نامی ایک شخص نے  ان پر قاتلانہ حملہ  کیا، یہ حملہ ان کے خلاف  چلائی  گئی ایک منظم نفرت انگیز مہم کاحصہ تھا  ،  اس کے  کچھ عرصہ  کے بعد  انھوں نے پاکستان کو خیر آباد کہہ دیا 

 اس کے بعد ضیاءالحق کے دور میں جونیجو حکومت  کے لیے  مالی سال 1986-87 کے لئے بجٹ معروف ماہر اقتصادیات   ڈاکٹر محبوب الحق نے بنایا، (3) یہ خسارے کے بجائے 47 کروڑ کی بچت کا بجٹ تھا۔ اور  13 سال کے بعد بغیر خسارے کا بجٹ تھا- جو کہ جونیجو حکومت کا آخری بجٹ ثابت ہوا- اوراب تک کا بغیر خسارے کے  یہ آخری بجٹ ہے۔ اس کے بعد  آج تک اگلے 32سالوں میں خسارے سے پاک کوئی بجٹ نہیں آ سکا(گویا  یہ غلطی  کسی نے نہیں دہرائی 
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ لوگ جو پاکستان کی معیشت کےلئیے مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں انھیں باقاعدہ منصوبہ کے تحت ان معاملات سے دور رکھا جاتا ہے۔ 

ہمارے موجودہ نظام میں حکومت کے جو تین ستون ہیں ان کے اخراجات کو کم کرنے کی کبھی بات نہیں کی جاتی، صرف دفاعی بجٹ پچھلے سال سے 6 فیصد زیادہ ہے،  اس کے علاوہ وزیراعظم ہاوس کے اخراجات،  پریذیڈنسی کے اخراجات،  مسلح افواج کے افسران کے مراعات ، بیوروکریسی ، اور جناب عدلیہ کا تو ذکر بھی توہین کے زمرے میں آجائے گا
 اس کے علاوہ عوام ہر پانچ سال کے بعد ایم این اے اور ایم پی اے کی ایک فوج منتخب کر کے  اسمبلی میں بھیجتے ہیں تاکہ ان تمام مسائل کو حل کیا جا سکے، لیکن  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان مسا ئل کو حل کرنے کی بجائے  یہ لوگ ان مسائل میں اضا فہ کا باعث  بن رہے ہوتے ہیں - کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان کا ایک ایم این اے ہمیں سالانہ کتنے میں پڑتا ہے۔

ایک ایم این اے کی ماہانہ  الاونسز 2016ء میں کی گئی ترمیم کے مطابق کم از کم  4،70،000    روپے ہوں گے 
ماہانہ تنخواہ 2،00،000*  
 ٹرانسپورٹ 50،000 *
  حلقے کے لئیے 70،000 روپے   *
100000   مینٹیننس      
3،00،000   سفر کے لئیے سالانہ الاونس 
   آئی ٹی الاونس 300000
، ٹرین کے اے۔سی فرسٹ کلاس میں لامحدود مفت سفر  *
 ،اس کے علاوہ کسی بھی گورنمنٹ ہاسٹل میں مفت رہنے کی سہولت* 
،گھر کے لئیے بجلی  مفت* 
  اس کے ساتھ گاڑی ، پٹرول، ڈرائیور،پی اے، ملازم وغیرہ ،  اسمبلی کے اجلاس کے دوران  الاونس بھی الگ سے ملتے ہیں
اس طرح ایک سال کی  قومی اسمبلی  کے ممبران کی تنخواہ  2 ارب روپے تک جاتی ہے
 یعنی دس ارب  روپے صرف قومی اسمبلی کے ممبران کی مراعات کی نظر ہو جاتاہے ۔ یہ صرف قومی اسمبلی کے ممبران کے اخراجات ہیں  -اس میں ایک سو سینٹرز،  65 بلوچستان اسمبلی، 168 سندھ اسمبلی، 145 کے پی اسمبلی، 371 پنجاب اسمبلی،--- ( کل 749) ایم پی اے یعنی کل 1091 افراد
 یہ وہ ایک ہزار لوگ ہیں جنھیں ہم ملک کے خزانوں کی کنجیاں سونپ دیتے ہیں اس کے بعد اگر یہ ۔۔..۔ چہرے بنا کر ملکی معیشت کی تباہی کی کہانی سنائیں تو اس کے ذمہ دار یہ خود ہیں -جبکہ ان کے اپنے رہن سہن اور جائیدادوں میں کبھی کوئی کمی نہیں ہوتی اور نہ ہی کبھی کسی سیاستدان نے ملک کی معیشت کو سہارا دینے کے لئیے اپنے سرمائے ملکی خزانے میں جمع کروائے ہیں 

 پھر حکومت کا  دوسرا ستون؛ جو کہ دوسرا بھی ہے اور پہلا بھی کیونکہ افواج پاکستان نے نہ  صرف ملک کی سرحدوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی بلکہ بوقت ضرورت ملک کی باگ دوڑ بھی سنبھالی ۔ اس لئیے یہ نہ صرف ملکی خزانے میں سے اپنا وافر حصہ وصولتے رہے ہیں بلکہ قریبا تیس سال سے زائد ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بھی رہے ہیں اور ملکی معیشت کی تباہی میں سیاستدانوں کے ساتھ برابر کے حصہ دار ہیں -ان دونوں شعبوں کو کبھی بھی پاکستان کی معیشت کی موجودہ حالت سے بری الذمہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہم حیران ہوتے ہیں ان لوگوں پر جو سیاستدانوں کی خاطر فوج کو برا بھلا کہتے ہیں اور فوج کی طرف داری کرتے ہوئے سیاستدانوں کو برا کہتے ہیں۔۔۔۔ 
 ان تمام اعداد و شمار میں عدلیہ کو دی گئی مراعات، بیورو کریسی کے ٹھاٹھ باٹھ کے اخراجات، اعلی عہدوں پر فائز حکومتی افسران، مشیران اور  وزرائےمملکت  کو دی گئی آسائشیں شامل نہیں ہیں- یہاں یہ بتانا مقصود ہر گز نہیں ہے کہ ایک  ایم این اے ، سیکرٹری ، جج، فوج کے افسر کو کیاکیا مراعات ملتی ہیں اصل چیز یہ ہے کہ اسکے بعد بھی یہ تمام لوگ کرپشن کرتے ہیں اور ملک کی دولت لوٹتے ہیں  یہ تو وہ تمام مراعات ہیں جو قانونی طور پر ان لوگوں کوحاصل ہیں.
کسی ملک کی بہتر معاشی صورتحال اور اقتصادی استحکام کا اس بات سے بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس ملک کے پاسپورٹ کی دوسرے ممالک کے پاسپورٹ کے مقابلے میں کونسا نمبر ہے اور پاکستانی پاسپورٹ اس فہرست میں نیچے سے چوتھے نمبر پر ہے۔ یہاں کسی بھی صاحب اقتدار اور صاحب اختیار کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کوئی بڑی بات نہیں- اسلئے ان تمام اعدادوشمار اور شاہانہ اخراجات کے بعد  ملک کی خراب معاشی صورتحال کا   بوجھ  محض کرونا وائرس پر نہیں ڈالا جاسکتا
میرا عزم اتنا بلند ہے کہ پرائے شعلوں کا ڈر نہیں 
مجھے خوف آتش گل سے ہے یہ کہیں چمن کو جلا نہ دے 
       
سوال:       اگر آپ کے گھر کے اخراجات آپ کی آمدنی سے دوگنا ہو جائیں تو آپ کیا کریں گے؟ 
        ----------------------------------------------------              

1-لیاقت علی خان نے پہلا مالی    بجٹ 1948 -49    کا پیش کیا تھا ۔ اس وقت مغربی پاکستان یعنی آج کے پاکستان کے بجٹ کا حجم 89 کروڑ 57 لاکھ تھا جبکہ آمدنی 79 کروڑ 57 لاکھ    

 
2 -اس کا حجم 8 ارب 96 کروڑ64 لاکھ تھا

3-جس کا حجم 1 کھرب 52 ارب21 کروڑ تھا۔ اس بجٹ میں آمدنی1 کھرب52 ارب89 کروڑ تھی 


https://www.passportindex.org/byRank.php







Wednesday, June 2, 2021

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قباکر Ahmadies lives matter

 

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا کر

آر۔ ایس بھٹی

پچھلے دنوں پی ٹی آئی کےایم پی اے نذیر چوہان کے خلاف وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے اکاونٹیبلٹی نے مقدمہ درج کروایا ہے جس میں انھوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ نذیر چوہان نے مجھے قادیانی کہہ کر میری زندگی داو پر لگا دی ہے ۔ 

اس مقدمہ کے بعد بھی کیا کسی کے ذہن میں یہ شک رہ جاتا ہے کہ پاکستان میں احمدیوں کی زندگیاں کس قدر خطرے میں ہیں۔ اگر ایک اعلی حکومتی عہدیدار کی زندگی کو محض  اس بنا ء پر خطرہ  لاحق ہو سکتا ہے کہ اس پر  احمدی ہونے کا جھوٹا الزام لگایا گیا ہے،  تو اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان میں موجود عام احمدی کی زندگی کس قدر خطرے میں ہے لیکن آفرین ہے ان حکومتی وزیروں اور مشیروں پر جو احمدیوں کے خلاف ان تمام خطرات کو محض" پروپیگنڈا"  قرار دیتے ہیں۔ 

       پاکستان میں یہ روایت برسوں چلی آ رہی ہے کہ      

جب کوئی ایمانداری سے کام کر رہا ہو تو اسے ----> قادیانی کہہ دو

جب کسی کو راستے سے ہٹانا ہو تو اسے ----> قادیانی کہہ دو

جب بھی کسی سے اختلاف رائے ہو تو اسے ----> قادیانی کہہ دو

لیکن ایسا غالبا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کوئی شخص اس الزام کو لے کر عدالت جا پہنچا ہو۔  شہزاد اکبر کے اس مقدمے نے ان تمام حکومتی دعووں کی قلعی کھول کر رکھ دی کہ پاکستان اقلیتوں کے لئیے ایک محفوظ ملک ہے اور حکومت کے اپنے ہی مشیر نے اسے کٹہرے میں لا کھڑا  کیا ہے۔ گویا اس  گھر کو اس کے اپنے ہی چراغ نے آگ لگا دی۔ 

اس کے بعد حکومت کے مشیر برائے مذہبی امور کا جو بیان سامنے آیا وہ بھی انتہائی شرمناک ہے جس میں انھوں نے کمال ڈھٹائی سے اس بات پر زور دیا ہے کہ جب شہزاد اکبر نے یہ وضاحت دے دی ہے کہ وہ قادیانی نہیں ہیں تو ان کی وضاحت کو قبول کرنا چاہیئے اور الزام لگانے والوں کو معذرت کرنی چاہیئے۔ علامہ طاہر اشرفی کے اس بیان سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ ان کو اس بات کی ذرا سی بھی پرواہ نہیں ہے کہ پاکستان میں موجود احمدیوں کی زندگی کو کیا خطرات ہیں ؟ ان کی کل دلچسپی محض اس بات میں ہے کہ کسی طرح شہزاد اکبر کو غیر قادیانی ثابت کیا جا سکے اور ان کی زندگی کو لاحق خطرات دور کئیے جا سکیں۔ یہ علامہ، وزیراعظم  کے خصوصی مشیر برائے مذہبی امور ہیں ، لیکن خدا معلوم یہ کون سے مذہب کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں جس میں ایک عام شہری کی زندگی کی کوڑی کی بھی قدر نہیں


پاکستانی معاشرہ بہت سے تضادات کا شکار ہے مثلا لوگ ملاؤں کو برا بھلا کہنے کے ساتھ ساتھ ان کے پیچھے نمازیں پڑھنا اور ان کے پاس اپنے بچوں کو دین کا علم سیکھنے کے لئیے بھیجنا اور ان کے اشاروں پرکسی دوسرے مسلک یا مذہب کے لوگوں پر ظلم کرنا عین عبادت گردانتے ہیں 
ہمسایہ ملک کی فلمیں، ڈرامے دیکھنا جائز سمجھتے ہیں لیکن ان کے پیاز،  ٹماٹر حرام جانتے ہیں 
مغربی معاشرے کو تو کسی صورت برداشت نہیں کرتے مگر مغربی ممالک کے ویزے لگوانے کے لیئے لمبی لائنوں میں کھڑے ہو کر انتظار کرنا ان کی زندگی کا نصب العین ہے 

انھی تضادات کی لمبی فہرست میں ایک اضافہ پچھلے کچھ عرصے میں ہوا ہے کہ متواتر اقلیتوں کا استحصال کرو اور متواتر اقلیتوں کے محفوظ ہونے کا راگ الاپتے رہو۔ کبھی کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کیا اس ملک میں رہنے والے سبھی لوگوں کے دل اور دماغ میں درست اور غلط کا موازنہ کرنے کا احساس ختم ہو چکا ہے کیا واقعی ان میں کوئی رجل رشید باقی نہیں رہا۔ ان کے  معیار دوسروں کے لئے اور خود کے لئے اس قدر مختلف کیوں ہیں ؟ 
اور جناب کہاں ہیں شاہ محمود قریشی ؟ جنھوں  نے جرمنی میں  احمدیوں سے متعلق سوال پر سینہ تان کر کہا تھا کہ یہ سب پراپیگنڈہ ہے۔ انھیں چاہیئے تھا کہ وہ شہزاد اکبر کو بھئ سمجھاتے کہ احمدی پاکستان میں بالکل محفوظ ہیں اور یہ سب پراپیگنڈہ ہے، اور یہ کہ اگر انھیں کسی نے قادیانی کہہ بھی دیا ہے تو اس سے انکی  جان کو قطعا کوئی خطرہ لاحق نہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ اگر وہ اپنی پر اثر تقریر شہزاد اکبر کے سامنے بھی کرتے تو یقینا اس مقدمے کی نوبت نہ آتی اور حکومت کی اپنی ہی صفوں میں موجود یہ اختلاف کھل کر یوں سامنے نہ آتا   

لیکن اسے آپ قدرت کی ستم ظریفی کہہ لیں کہ حقائق نہ چاہتے ہوئے بھی سامنے آ جاتے ہیں اور وقت کی گردش ہر گزرتے لمحے کے ساتھ سچائی کو سامنے لے کر آ جاتی ہے اور محفوظ اقلیتوں کے دعووں کی حقیقت خود حکومت کے اپنے ہی وزیروں مشیروں کے بیانات سے کھلتی جاتی ہے اسی لئیے کسی نے کیا خوب کہا ہے 
اتنی نہ بڑھا پا کئی داماں کی حکایت 
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا کر